مابعدالطبیعیات اور سوالِ وجود
کسی چیز کے موجود ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں ہے؟ ارسطو اور ابنِ سینا سے لے کر ملا صدرا اور ہائیڈیگر تک، ہم سب سے گہرے سوال کا مطالعہ کرتے ہیں۔
فلسفہ حکمت سے محبت ہے: حقیقت، علم، اقدار اور اپنی ذات کو سمجھنے کی صبر آزما کوشش۔ خلوت میں ہم اسے اسلامی، مشرقی اور مغربی روایات کے درمیان ایک زندہ مکالمے کے طور پر پڑھتے ہیں۔
کسی چیز کے موجود ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں ہے؟ ارسطو اور ابنِ سینا سے لے کر ملا صدرا اور ہائیڈیگر تک، ہم سب سے گہرے سوال کا مطالعہ کرتے ہیں۔
الکندی، الفارابی، ابنِ سینا، امام غزالی، ابنِ رشد، سہروردی، ملا صدرا، شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال: ایک ایسی روایت جس نے عقل، وحی اور روحانی بصیرت کو یکجا کیا۔
سقراط، افلاطون اور ارسطو سے لے کر ڈیکارٹ، کانٹ، ہیگل، کیرکیگارڈ، ہسرل، ہائیڈیگر اور وٹگنسٹائن تک: مغرب نے سچائی، ذہن اور معنی کے بارے میں کیسے سوال کیا۔
لاؤ زی، کنفیوشس، چوانگ زی، گوتم بدھ، ناگارجن، شنکر آچاریہ، ڈوگن اور ٹیگور: ذات، ہم آہنگی اور راستے کے بارے میں چین، ہندوستان اور جاپان کی حکمت۔
مشرق و مغرب کے پچاس عظیم مفکرین، ہر ایک کے بنیادی خیالات اور اقوال کے ساتھ، تاکہ آپ مطالعہ شروع کر سکیں۔
مزید پڑھیے ←چھوٹے گروہ جو کئی ہفتوں تک ایک ہی متن مل کر پڑھتے ہیں، آن لائن اور ملتان میں۔ اگلے حلقے میں شامل ہونے کے لیے ہمیں لکھیے۔
مزید پڑھیے ←ہر ہفتے ایک خط: غالب کا ایک شعر، کسی فلسفی کا ایک اقتباس، اور ہفتے بھر کے لیے ایک مشق۔